سید مودودی رحمہ اللہ
اس دوران میں تحریک کے لیڈر نے اپنی
شخصی زندگی سے اپنی تحریک کے اصولوں کا اور ہر اس چیز کاجس کےلئے یہ تحریک اٹھی
تھی، پورا پورا مظاہرہ کیا۔ ان کی ہر بات، ہر فعل اور ہر حرکت سے اسلام کی روح
ٹپکتی تھی اور آدمی کی سمجھ میں آتا تھا کہ اسلام کسے کہتے ہیں۔ یہ ایک بڑی تفصیل
طلب بحث ہے جس کی تشریح کا یہاں موقع نہیں۔ مگر مختصراً چند نمایاں باتوں کا میں
یہا ں ذکر کرونگا۔
ان کی بیوی حضرت خدیجہ حجاز کی سب سے
مالدار عورت تھیں اور وہ ان کے مال سے تجارت کرتے تھے۔ جب اسلام کی دعوت شروع ہوئی
تو آنحضرت کا سارا تجارتی کاروبار بیٹھ گیا کیونکہ ہمہ تن اپنی دعوت میں مصروف
ہوجانے اورتمام عرب کو اپنا دشمن بنالینے کے بعد یہ کام نہ چل سکتا تھا۔ جو کچھ
پچھلا اندوختہ تھا اس کو میاں اور بیوی دونوں نے اس تحریک کے پھیلانے پر چند سال
میں لٹا دیا۔آخر کار نوبت یہاں تک آئی کہ جب انحضرت اپنی تبلیغ کے سلسلہ میں طائف
تشریف لے گئے تو وہ شخص جو کبھی حجاز کا ملک التجار تھا ،اس کو سواری کےلئے ایک
گدھا تک میسر نہ ہوا۔( اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد۔۔۔۔)
قریش کے لوگوں نے آنحضرت کے سامنے
حجاز کا تخت پیش کیا۔ کہا کہ ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنا لیں گے، عرب کی حسین ترین
عورت آپ کے نکاح میں دے دیں گے ، دولت کے ڈھیر آپ کے قدموں میں لگا دیں گے بشرطیکہ
آپ اس تحریک سے باز آجائیں۔ مگر وہ شخص جو انسان کی فلاح کےلئے اٹھا تھا ، اس نے
ان سب پیش کشوں کو ٹھکرا دیا اور گالیاں اور پتھر کھانے پرراضی ہوگیا۔
قریش اور عرب کے سرداروں نے کہاکہ
محمد! ہم تمہارے پاس کیسے آکر بیٹھیں اور تمہاری باتیں کیسے سنیں جب کہ تمہاری
مجلس میں ہروقت غلام، مفلس(معاذاللہ) کمین لوگ بیٹھے رہتے ہیں ۔ ہمارے ہاں جو سب
سے زیادہ نیچے طبقے کے لوگ ہیں ان کو تم نے اپنے گردوپیش جمع کررکھا ہے ، انہیں
ہٹاؤ تو ہم تم سے ملیں، مگر وہ شخص جو انسانوں کی او نچ نیچ برابرکرنے آیا تھا اس
نے رئیسوں کی خاطر غریبوں کودَھتکارنے سے انکار کردیا۔
اپنی تحریک کے سلسلہ میں آنحضرت نے
اپنے ملک ، اپنی قوم، اپنے قبیلہ ، اپنے خاندان ،کسی کے مفاد کی پرواہ نہیں کی۔
اسی چیز نے دنیا کو یقین دلایا کہ آپ انسان بحیثیت انسان کی فلاح کےلئے اٹھے ہیں،
اور اسی چیز نے آپ کی دعوت کی طرف ہر قوم کے انسانوں کو کھینچا۔ اگرآپ اپنے خاندان
کی فکر کرتے تو غیر ہاشمیوں کو اس فکر سے کیا دلچسپی ہوسکتی تھی؟ اگر آپ اس بات
کےلئے کبھی بے چین ہوتے کہ قریش کے اقتدار کوتو کسی طرح بچالوں تو غیر قریشی عربوں
کو کیا پڑی تھی کہ اس کام میں شریک ہوتے؟ اگر آپ عرب کی برتری کےلئے اٹھتے تو حبش
کے بلال، روم کے صہیب اور فارس کے سلمان کو کیا غرض تھی کہ اس کام میں آپ کا ساتھ
دیتے؟ دراصل جس چیز نے سب کو کھینچا وہ خالص خدا پرستی تھی، ہر ذاتی، خاندانی،
قومی، وطنی غرض سے مکمل بے لوثی تھی۔
مکہ سے جب آپ کو ہجرت کرنا پڑی تو وہ
تمام امانتیں جودشمنوں نے آپ کے پاس رکھوائی تھی، حضرت علی کے سپرد کرکے نکلے کہ
میرے بعد ہر ایک کی امانت اس کو پہنچا دینا ۔دنیا پرست ایسے موقع پر جو کچھ ہاتھ
لگتا ہے ، لے کر چلتے ہیں۔ مگر خدا پرست نے اپنی جان کے دشمنوں ، اپنے خون کے
پیاسوں کا مال بھی انہیں واپس پہنچانے کی فکر کی اور اس وقت کی جب کہ وہ اس کے قتل
کا فیصلہ کرچکے تھے۔ یہ وہ اخلاق تھا جس کو دیکھ کر عرب کے لوگ دنگ رہ گئے ہونگے
اور مجھے یقین ہے کہ جب وہ دو سال کے بعد بدر کے میدان میں آنحضرت کے خلاف لڑنے
کھڑے ہوئے ہونگے تو ان کے دل اندر سے یہ کہہ رہے ہونگے کہ یہ تم کس سے لڑرہے ہو؟
اس فرشتہ خصلت انسان سے جو قتل گاہ سے رخصت ہوتے وقت بھی انسانوں کے حقوق اور
امانت کی ذمہ داری کو نہیں بھولتا؟ اس وقت ان کے ہاتھ ضد کی بنا پر لڑتے ہونگے مگر
ان کے دل اند ر سے بھینچ رہے ہونگے ۔ عجب نہیںکہ بدر میں کفار کی شکست کے اخلاقی
اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہو۔
No comments:
Post a Comment